تحریر: آغا زمانی سکردو
حوزہ نیوز ایجنسی| حجت الاسلام مولانا شیخ محمد حسین رئیسی صاحب سے ایک نہایت مفید، فکر انگیز اور سیر حاصل نشست رہی۔ مولانا صاحب معروف عالمِ دین، خطیب، مدرس اور دینی و سماجی خدمت گزار ہیں۔ گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے کراچی کی معروف مسجد محفلِ مرتضیٰ (پی، ای، سی، ایچ، ایس) کے امامِ جماعت کی حیثیت سے دینی، تبلیغی، تدریسی اور اصلاحی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مجالسِ عزا، دینی پروگراموں اور درس و تدریس کے ذریعے نسلِ نو کی دینی و اخلاقی تربیت بھی ان کی مسلسل ترجیحات میں شامل ہے۔ مولانا شیخ محمد حسین رئیسی صاحب ہیئتِ ائمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کراچی کے صدر بھی ہیں، جہاں وہ علماء و ائمہ کے درمیان دینی و تنظیمی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مصروفِ عمل ہیں۔
ان کی زندگی کا ایک نمایاں اور قابلِ ذکر باب انوار الہدیٰ ویلفیئر فاؤنڈیشن ٹرسٹ ہے، جس کا باقاعدہ قیام 2012ء میں عمل میں آیا۔ اس ادارے کے ذریعے یتیم اور مستحق بچیوں کے لیے تعلیم، رہائش، کفالت اور تربیت کا ایسا منظم سلسلہ قائم کیا گیا ہے جو وقت کے ساتھ ایک وسیع تعلیمی و فلاحی نظام کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ آج تقریباً 150 سے 200 بچیاں اس ادارے میں تعلیم و تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ کم عمری سے میٹرک و انٹر تک تعلیم کے ساتھ ان کے لیے رہائش، خوراک، آمدورفت، دینی و اخلاقی تربیت اور دیگر بنیادی ضروریات کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ہر سال تقریباً 15 بچیاں ادارے سے فارغ ہوکر یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا رخ کرتی ہیں اور اپنے مستقبل کی تعمیر کے سفر پر گامزن ہوتی ہیں۔ یہاں تعلیم محض کتابوں تک محدود نہیں بلکہ بچیوں کو خوداعتمادی، کردار، دینی شعور اور معاشرے کا باوقار اور مفید فرد بننے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسی فلاحی مشن کا ایک اہم پہلو صغریٰ ہوم سلائی کڑھائی مرکز ہے، جہاں قوتِ سماعت سے محروم تقریباً 40 سے 50 بچیوں کو سلائی، کڑھائی، کوکنگ اور دیگر عملی ہنر سکھائے جا رہے ہیں، تاکہ تعلیم و تربیت کے ساتھ انہیں ہنرمندی اور خودانحصاری کے مواقع بھی میسر آسکیں۔ خدمتِ خلق کا یہ سفر صرف تعلیم اور تربیت تک محدود نہیں۔ سکردو میں انوار الہدیٰ مہمان سرائے گزشتہ کئی برسوں سے آر ایچ کیو ہسپتال کے قریب مریضوں کے تیمارداروں کے لیے ایک خاموش مگر انتہائی اہم سہولت فراہم کر رہی ہے۔ چار کمروں پر مشتمل اس مہمان سرائے میں شگر، خپلو، کھرمنگ، روندو، گلتری اور بلتستان کے دیگر علاقوں سے علاج کی غرض سے سکردو آنے والے مریضوں کے تیمارداروں کو بلا معاوضہ رہائش فراہم کی جاتی ہے، جبکہ سردیوں میں کمروں کو گرم رکھنے کا بھی انتظام موجود ہے۔ مولانا شیخ محمد حسین رئیسی صاحب کی گفتگو میں بار بار یہ احساس نمایاں ہوا کہ دین صرف عبادت گاہوں تک محدود نہیں بلکہ انسان کی تعلیم، تربیت، عزتِ نفس اور ضرورت کے وقت اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام بھی ہے۔
ان سے ہونے والی گفتگو میں ان کے علمی و دینی سفر، کراچی میں تقریباً تین دہائیوں کی امامت و تبلیغ، منبر و محراب اور درسگاہ کے ذریعے نئی نسل کی تربیت، ہیئتِ ائمہ و علماء کی سرگرمیوں، انوار الہدیٰ ویلفیئر فاؤنڈیشن کے قیام و مقاصد، یتیم و مستحق بچیوں کی تعلیم و کفالت، ہنرمندی و معاشی خودمختاری، انوار الہدیٰ مہمان سرائے اور مستقبل کے فلاحی منصوبوں سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ بلاشبہ ایسے ادارے اور شخصیات معاشرے میں امید کے چراغ روشن کرتے ہیں۔ ایک بچی کو تعلیم دینا، اسے محفوظ ماحول فراہم کرنا، ہنر سکھانا، اس کے مستقبل کی بنیاد مضبوط کرنا اور ضرورت مند انسان کو مشکل وقت میں سہارا دینا دراصل ایک بہتر معاشرے کی تعمیر میں حصہ ڈالنا ہے۔
اللہ تعالیٰ حجۃ الاسلام مولانا شیخ محمد حسین رئیسی صاحب کو سلامت رکھے، ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے، ان کے فلاحی و تعلیمی مشن کو وسعت عطا فرمائے، اور جو افراد و ادارے اس کارِ خیر میں ان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین









آپ کا تبصرہ